آہم خبریں
کراچی: آج ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کراچی ڈویزن کے صدر عبدالغفور عباسی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سندھ اسیمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ سے ملاقات٬ ملازمین کے مسائل پر بات چیت کی گئی
کوٹری: ایپکا پاکستان(شهید ساقی) کے غیر معمولی بیٹھک میں مرکزی چیٸرمین,مرکزی صدر,صو باٸی صدر اور جنرل سیکریٹری ودیگر کے متفقه فیصله کے تحت مسٹر عابد حسین چانڈیو کو ایپکا پاکستان(ساقی)سندھ کا سرپرست اعلٸ مقرر کرنے کی منظوری دی گٸی
کراچی: کراچی کے مرکزی اور صوباٸی قاٸدین 17اگسٹ 2026 کو ایس ایم ساٸنس کالج صدر کراچی میں دو بجه کے اهم اجلاس میں شرکت کرکے تنظیمی سازی اور کراچی ڈویزن اور اضلاع اور دیگر سیکٹر کی تشکیل نو اور راۓ اقر انتخاب سے باڈی کی تشکیل خود کریں
حیدرأباد: پاکستان کی یوم ازادی مبارک
حیدرآباد: ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کے تشخص کو بحال رکہنے اور ملک بہر میں تمام ملازمین کو متحرک پیلیث فارم دینا اور ریثائرڈ ملازمین کو بہی تنظیم کا حصہ بنانے کیلئے ساتھیوں سے راے اور مشورہ جاری ہے -ایم اے بھرگڑی
کراچی: کالیج ایجوکیشن سندھ کے کلرکس اپنی اپنی #ACRs و دیگر کاغذات سینیئر کلرکس سے بطور اسسٹنٹس کے پروموشن کیلئے جمع کرائیں دیر آید درست آید ایپکا (شہید ساقی)
حیدرآباد: سندھ پبلک سروس کمیشن میں 100 مارکس کے نتائیج کے بعد ممبر کو 50 مارکس اور سی سی ای کے نتائیج کے بعد ممبر کو زیادہ سے زیادہ مارکس 100 کا اختیار دیا جائے کہ میرے بحال ہو سکے
حیدرآباد: سندھ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات کی حمایت اور سندھ میں میرٹ کی بحالی سندھ کے عوام کی ضرورت ہے
حیدرآباد: میرٹ بحالی کئپ سندھ پبلک سروس کمیشن کے ھیڈ آفیس کے سامنے ایکشن کمیٹی کے ساتھ یکجہتی کرنے کیلے مرکزی صدر نیاز حسین خاصخیلی کی قیادت مین ایپکا پاکستان شھید ساقی کا وفد شریک
حیدرآباد: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کے اسکیل روائیز کرنے٬ 7 فیصد ایڈھاک الائونس٬ اسپیشل کنوینس الائونس اور 50 فیصد سرکاری ملازمین کے موجودہ کنوینس الائونس میں اضافہ٬ کم سے کم تنخواہ 4300 رویپہ دینے کیئے گریڈ 1 تا 2 کے ملازمین کو الائونس دینے کے الک الگ نوٹیفکیش
For Membership

ایپکا پاکستان (شھید ساقی) کا نام اور تشخص برقرار رکہتے ہوئے تمام ملازمین اور پنشنرز کو اپیکا میں شامل کرنے کیلئئے دستور 2026 کی تیاری شروع کردی گئے

ایپکا پاکستان (شھید ساقی)
دستور 2026 کا نصب العین
ایمان • اتحاد • مشاورت • جمہوریت • شفافیت • احتساب • آئین کی بالادستی
تنظیمی شعار
"شہید محمد اسحاق ساقی اور محمودالحسن آرزو کا مشن — تمام ملازمین کا اتحاد، پنشنرز کا تحفظ، مملکتِ پاکستان کے اداروں کا استحکام۔"
آئینی عہد
"آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، تمام ملازمین اور پنشنرز کے حقوق کا تحفظ، مملکتِ پاکستان کے اداروں کا استحکام، اور وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام ہمارا مشترکہ عہد ہے۔"

ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کے دستور 2026 تشکیل دینے منظوری آج 22 اگسٹ 2026 کو کوٹری ضلعہ جام شورو ميں مرکزی چیئرمیں کی سربراہی میں غیر معمولی اجلاس میں دی گئی ہے اس دستور کے تحت نمائندگان کا انتخاب اور صوبائی ٬ ڈویزنل ٬ ضلعی اور تحصیل ایگزیکیوٹو باڈ ی اور مرکزی ایگزیکیوثو باڈ ی کا چناوُ یا تشکیل کی جائے گی -








باب اول
تعارف، نام، حیثیت، دائرۂ کار اور اغراض و مقاصد
آرٹیکل 1: نام، شناخت اور تشخص
1. تنظیم کا کا باضابطہ نام
اردو: ایپکا پاکستان (شہید ساقی)
آل پاکستان کلرکس، پینشنرز و سول ایمپلائیز ایسوسی ایشن (شہید ساقی)
سندھی:
آپڪا پاڪستان (شهيد ساقي)
English:
APCA Pakistan (Shaheed Saqi)
All Pakistan Clerks, Pensioners & Civil Employees Association (Shaheed Saqi)
مستقل تنظیمی شناخت
APCA Pakistan (Shaheed Saqi)) تنظیم کی مرکزی اور مستقل شناخت ہوگی۔
لفظ "شہید ساقی / Shaheed Saqi / شهيد ساقي" تنظیم کی مستقل شناخت کا لازمی حصہ ہوگا اور اردو، انگریزی اور سندھی زبان میں تنظیم کا نام اورمونوگرام، لیٹرپیڈ، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، جھنڈوں، بینرز، نوٹیفکیشنز، مراسلات اور دیگر تمام تنظیمی مواد میں استعمال کیا جائے گا۔یہ ایک آزاد، خودمختار، جمہوری، غیر سیاسی، غیر منافع بخش، آئینی اور قومی ملازمین کی نمائندہ تنظیم ہوگی، جو پاکستان بھر کے حاضر سروس سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین، پینشنرز، وفاقی و صوبائی سول ایمپلائیز، خودمختار اداروں، نیم سرکاری اداروں اور دیگر متعلقہ سرکاری ملازمین کے اجتماعی، آئینی، قانونی، معاشی، سماجی، پیشہ ورانہ اور فلاحی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس سے پہلے ایپکا پاکستان کا منشور 2011 تھا
2. تنظیم کا نام "شہید ساقی" بانی رہنما شہید محمد اسحاق ساقی کی لازوال قربانیوں، اصولی جدوجہد، دیانت داری اور ملازمین کے حقوق کے لیے ان کی تاریخی خدمات کے اعتراف میں مستقل طور پر تنظیم کے نام کا حصہ ہوگا۔
3. تنظیم کا مونوگرام، پرچم، لوگو، نشان، مہر (Seal)، سرکاری لیٹر ہیڈ اور دیگر تنظیمی علامات مرکزی مجلسِ عاملہ کی منظوری سے اس دستور 2026 کے ضمیمہ کا حصہ ہوں گی اور ان کا استعمال صرف مجاز تنظیمی مقاصد کے لیے کیا جائے گا۔
________________________________________
آرٹیکل 2: قانونی حیثیت
1. ایپکا پاکستان (شہید ساقی) آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان، مروجہ قوانین، متعلقہ سروس رولز، لیبر قوانین اور آئين پاکستان اس دستور کے مطابق اپنے تمام معاملات انجام دے گی۔
2. تنظیم اپنی تمام جدوجہد مکمل طور پر آئینی، جمہوری، قانونی اور پرامن ذرائع سے کرے گی۔
3. تنظیم کسی بھی غیر آئینی، غیر قانونی، تشدد آمیز، فرقہ وارانہ، نسلی، لسانی یا ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث نہیں ہوگی۔
4. تنظیم پاکستان کی خودمختاری، آئین، قانون کی حکمرانی، قومی وحدت اور ریاستی اداروں کے استحکام کے اصولوں کی مکمل پاسداری کرے گی۔
________________________________________

آرٹیکل 3: مرکزی صدر دفتر
1. تنظیم کا مرکزی صدر دفتر يا صوبائي دارالحکومت کراچی سندھ میں قائم ہوگا اور وفاقي ملازمين اور پينشنرز کی سہولت کیلئے دارالحکومت اسلام آباد میں بہی دفتر قا۔م کرنے کی تجویز اور حق رہے گا ۔
2. مرکزی مجلسِ عاملہ کی منظوری سے پاکستان کے کسی بھی صوبے، ڈویژن، ضلع، تحصیل یا دیگر مناسب مقام پر صوبائی، ریجنل، ڈویژنل، ضلعی، رابطہ یا انتظامی دفاتر قائم کیے جا سکیں گے۔ عمومی طور پر مرکزی و صوبائی صدر کا دفتر تنظیمی دفتر ہوگا اورمرکزی سیکریٹری جنرل اور صوبائی جنرل سیکریٹری اپیکا پاکستان (شہید ساقی) جہان بہی ملازمت کرتے ہونگے انکا سب دفتر ہوگا۔
آرٹیکل 4: دائرۂ کار
1. تنظیم کا دائرۂ کار پورے پاکستان، بشمول وفاق، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ایسے تمام سرکاری، نیم سرکاری، خودمختار، بلدیاتی اور دیگر سرکاری اداروں تک ہوگا جہاں قانون کے مطابق ملازمین کو تنظیم سازی اور نمائندگی کا حق حاصل ہو۔
2. تنظیم اپنے امور مرکزی، صوبائی، ریجنل، ڈویژنل، ضلعی، محکمانہ، ادارہ جاتی اور یونٹ سطح کے منتخب تنظیمی ڈھانچے کے ذریعے انجام دے گی۔
3. تنظیم، قانون اور اس دستور کے مطابق، دیگر قومی ملازم تنظیموں، فیڈریشنز، ٹریڈ یونینز، پیشہ ورانہ اداروں اور قومی یا بین الاقوامی تنظیموں سے رابطہ، تعاون یا اشتراک قائم کر سکے گی، بشرطیکہ یہ تعاون آئینِ پاکستان اور اس دستور سے متصادم نہ ہو اور مملکت پاکستان وفاقی محکمہ جات و اداروں اور صوبائی محکمہ جات اور اداروں کے ملازمین کے حقوق کی ضمانت انکے مسالئ کے حل میں مدد حاصل ہو سکے-
آرٹیکل 5: اغراض و مقاصد
ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کے بنیادی اغراض و مقاصد درج ذیل ہوں گے:
1۔ ملک بھر کی ملازمین کی نمائندہ تنظیموں، فیڈریشنز، ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینز اور پنشنرز تنظیموں کے ساتھ آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے مشترکہ جدوجہد، باہمی تعاون، مشاورت اور اتحاد کو فروغ دینا، تاکہ تمام سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے یکساں مراعات، مساوی سروس شرائط، منصفانہ تنخواہوں، الاؤنسز، پنشن اور دیگر قانونی حقوق کا حصول یقینی بنایا جا سکے، نیز ہر قسم کے دوہرے معیار (Disparity) کے خاتمے اور "One Nation, One Law, One Pay Structure" کے اصول کے فروغ کے لیے مؤثر، آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد کرنا۔
2۔ حاضر سروس سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین، پنشنرز اور متعلقہ ملازمین کے آئینی، قانونی، معاشی، سماجی، پیشہ ورانہ اور فلاحی حقوق کا تحفظ، فروغ اور مؤثر نمائندگی کرنا۔
3۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 17، 25، 37 اور 38 کے مطابق ملازمین کے بنیادی حقوق، مساوات، سماجی انصاف، معاشی تحفظ اور باعزت روزگار کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا۔
4۔ پاکستان بھر کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ایک مضبوط، متحد اور جمہوری قومی پلیٹ فارم پر منظم کرنا۔
5۔ حکومت، سرکاری اداروں اور ملازمین کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون اور مؤثر رابطہ کاری کو فروغ دینا۔
6۔ ملازمین میں اتحاد، اخوت، نظم و ضبط، باہمی احترام، رواداری اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینا۔
7۔ تنخواہوں، پنشن، الاؤنسز، سروس اسٹرکچر، ترقی، بھرتیوں، طبی سہولیات، رہائش، ویلفیئر، روزگار کے تحفظ اور دیگر قانونی مراعات کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا۔
8۔ پنشنرز کے مالی، سماجی، طبی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر نمائندگی کرنا۔
9۔ ملازمین، ان کے اہلِ خانہ اور پنشنرز کے لیے ویلفیئر، امدادی فنڈ، تعلیمی معاونت، طبی امداد اور ہنگامی امداد کے اقدامات کرنا۔
10۔ سیمینارز، ورکشاپس، تربیتی پروگرام، تحقیقی، ادبی، ثقافتی، سماجی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد کرنا۔
11۔ ملازمین کو قانونی، انتظامی اور آئینی معاملات میں رہنمائی اور حسبِ ضرورت قانونی معاونت فراہم کرنا۔
12۔ رشوت، سفارش، اقربا پروری، بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، امتیازی سلوک اور ناانصافی کی حوصلہ شکنی کرنا۔
13۔ سرکاری اداروں میں اچھی حکمرانی (Good Governance)، ڈیجیٹل اصلاحات اور عوامی خدمت کے معیار میں بہتری کے لیے تجاویز دینا۔
14۔ ملازمین سے متعلق قوانین، قواعد، سروس اسٹرکچر، پنشن پالیسیوں اور انتظامی اصلاحات پر تحقیق اور سفارشات پیش کرنا۔
15۔ دیگر قومی ملازم تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور متعلقہ قومی یا بین الاقوامی اداروں سے قانونی دائرہ کار میں تعاون اور اشتراک قائم کرنا۔
16۔ تنظیم کے مالی وسائل، عطیات، چندہ اور دیگر آمدنی کو صرف تنظیمی مقاصد اور ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنا۔
17- تنظیم کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے قانون کے مطابق ہر جائز، آئینی، جمہوری اور پرامن اقدام کرنا۔
18۔ بانی رہنما شہید محمد اسحاق ساقی کی قربانیوں اور خدمات، نیز محمودالحسن آرزو کی تنظیمی خدمات اور مشن کو محفوظ رکھنا اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا۔
19۔ تنظیم کے ورکر اپنی مدد آپ کے تحت تنظیمی کاموں کے فروغ دے سکتے ہیں
20- سول ملازمین اور پینشنرز اپنے الگ سیکٹر میں کام کرنے کیلئے آزاد ہونگے اور انکے نمائدنگان چناوُ ممبرز کی اکثریت رائے سے کیا جائے

آرٹیکل 5-الف: تنظیم کے بنیادی اصول
1. آئینِ پاکستان، قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری۔
2. آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات، اجتماعی مشاورت اور ادارہ جاتی فیصلہ سازی جس میں ملازمین کا مستقبل محفوظ رہے۔
3. دیانت داری، شفافیت، مالی نظم و ضبط، احتساب اور اچھی حکمرانی۔
4. میرٹ، مساوات، عدمِ امتیاز، انصاف اور انسانی وقار۔
5. اتحاد، اخوت، برداشت، باہمی احترام اور تنظیمی نظم و ضبط۔
6. ریاستی اداروں کے استحکام، عوامی خدمت، قومی یکجہتی اور پاکستان کے قومی مفاد کا تحفظ۔
7. حاضر سروس ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین، پنشنرز، خواتین، نوجوانوں، خصوصی افراد اور اقلیتوں کی مساوی نمائندگی اور مساوی مواقع۔
8. تنظیم کے تمام معاملات میں آئینِ پاکستان، اس دستور، مروجہ قوانین، میرٹ، احتساب، اجتماعی مشاورت، شفافیت اور ادارہ جاتی بالادستی کی پابندی۔
9. تنظیم کا کوئی بھی فیصلہ، قرارداد، پالیسی یا اقدام ان بنیادی اصولوں، آئینِ پاکستان، اس دستور یا مروجہ قوانین سے متصادم نہیں ہوگا۔
10. تنظیم کا مرکزی چیئرمن با اختیار اور تا حیات ہوگا اور مرکزی باڈ ی کی تشکیل اور تبدیلی دستور 2026 کے مشترقہ فیصلوں کے ٹحت کریں گے-








باب دوم
رکنیت
تمہیدی اصول
ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کی بنیاد اس کے اراکین پر استوار ہے۔ رکنیت تنظیم کی اصل قوت، اجتماعی وحدت، جمہوری نمائندگی اور آئینی جدوجہد کا بنیادی ستون ہے۔ تنظیم اس امر کی پابند ہوگی کہ رکنیت کا نظام شفاف، منصفانہ، غیر امتیازی، جمہوری اور آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔
تنظیم ہر ایسے حاضر سروس سرکاری ملازم، ریٹائرڈ ملازم، پنشنر اور دیگر اہل سول ملازم کا حق ہے ، جو اس دستور اور منظور شدہ قواعد و ضوابط کی پابندی قبول کرے، مساوی مواقع اور منصفانہ طریقۂ کار کے تحت رکنیت فراہم کرے گی۔
رکنیت تمام سرکاری اداروں کے ملازمین حاصل کر سکتے ہیں شرط اپیکا پاکستان (شھید ساقی) کے دستور 2026 کی پابندی کرنی ہوگی
________________________________________
آرٹیکل 6
رکنیت، اہلیت، اقسام اور طریقۂ کار
6.1 رکنیت کا حق
ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کی رکنیت ہر ایسے حاضر سروس سرکاری اور خودمختیار اداروں کے ملازم، ریٹائرڈ ملازم، پنشنر یا دیگر مجاز سول ملازم کے لیے کھلی ہوگی جو:
1۔ تنظیم کے دستور، اغراض و مقاصد، بنیادی اصولوں اور ضابطۂ اخلاق سے اتفاق رکھتا ہو۔
2۔ آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان، نافذالعمل قوانین اور ریاستی اداروں کے احترام پر یقین رکھتا ہو۔
3۔ تنظیم کے اتحاد، وقار، جمہوری اقدار اور اجتماعی مفادات کے فروغ کے لیے عملی تعاون کا خواہاں ہو۔
4۔ مقررہ درخواست فارم، رکنیت فیس، سالانہ چندہ اور دیگر منظور شدہ شرائط پوری کرے۔
5- ممبر شپ فارم بہہرنا ہر ایک رکن اور تنظیمی نمائندہ کیلئے لازم ہوگا ٬ آنلائین فارم بہرنے کی بھی تجویز ہے
________________________________________
6.2 اہلیتِ رکنیت
رکنیت کے لیے درخواست گزار کا:
الف۔ متعلقہ سرکاری، نیم سرکاری، خودمختار یا منظور شدہ ادارے کا ملازم، ریٹائرڈ ملازم یا پنشنر ہونا ضروری ہوگا، یا مرکزی مجلسِ عاملہ کے منظور کردہ قواعد کے مطابق دیگر اہل فرد بھی رکنیت حاصل کر سکے گا۔
ب۔ تنظیم کے اغراض و مقاصد سے متصادم سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونا ضروری ہوگا۔
ج۔ دستور کے تحت نااہل قرار نہ دیا گیا ہو۔
________________________________________
6.3 عدمِ امتیاز
تنظیم رکنیت کی فراہمی میں مذہب، عقیدہ، مسلک، جنس، زبان، نسل، قومیت، صوبہ، علاقہ، معذوری یا کسی بھی غیر آئینی امتیاز کی بنیاد پر تفریق نہیں کرے گی۔
تمام اہل افراد کو مساوی مواقع، مساوی تحفظ اور مساوی تنظیمی حقوق حاصل ہوں گے۔
________________________________________
6.4 رکنیت کی اقسام
تنظیم میں درج ذیل اقسام کی رکنیت ہوگی:
الف۔ لائف ممبر (Life Member)
ہر وہ ملازمین جو مقررہ قواعد کے مطابق یکمشت فیس کی ادائیگی پر مستقل رکنیت عطا کی جائے۔
ایسے ملازمین جو تنظیمی کی فلاح اور بہبود میں فیس کے برابر غیر مشروط رقم خرخ کی ہو اسکا فیصلہ تنطیمی نمائندگان نے کیا ہو
ب۔ عام (جاب ٹائم) رکن (Ordinary / Job Time Member)
ہر حاضر سروس سرکاری ملازم اور خود مختیار اداروں اور تعلیمی اداروں کے ملازمیں جو اس دستور کے مطابق رکنیت حاصل کرے اور تنظیمی واجبات ادا کرے۔
ج۔ ریٹائرڈ رکن (Retired Member)
وہ سابق سرکاری ملازم جو ریٹائرمنٹ کے بعد تنظیم سے وابستہ رہے اور جن فارم پہلے موجود ہوں
د۔ پنشنر رکن (Pensioner Member)
وہ ریٹائرڈ ملازم جو پنشن حاصل کرتا ہو اور قواعد کے مطابق رکنیت حاصل کرے۔
ہ۔ افیلی ایٹڈ رکن (Affiliated Member)
مرکزی مجلسِ عاملہ سے منظور شدہ ملازم تنظیم، ایسوسی ایشن، یونین یا فیڈریشن کا نمائندہ۔
و۔ معاون رکن (Associate Member)
ایسا فرد یا ادارہ جو تنظیم کے اغراض و مقاصد کی تائید کرے اور قواعد کے مطابق معاون رکنیت حاصل کرے۔
ز۔ اعزازی رکن (Honorary Member)
وہ شخصیت جسے آرٹیکل 10 کے تحت نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازی رکنیت عطا کی جائے۔
________________________________________
6.5 رکنیت حاصل کرنے کا طریقۂ کار
1۔ ہر درخواست گزار مقررہ رکنیت فارم مکمل کرکے متعلقہ یونٹ یا مجاز تنظیمی فورم میں جمع کرائے گا۔
2۔ مقررہ رکنیت فیس، سالانہ چندہ اور دیگر منظور شدہ واجبات ادا کیے جائیں گے۔
3۔ متعلقہ تنظیمی یونٹ یا مجاز فورم درخواست کا جائزہ لے کر اسے منظور یا معقول وجوہات کی بنیاد پر مسترد کر سکے گا۔
4۔ درخواست مسترد ہونے کی صورت میں درخواست گزار کو تحریری وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا اور اسے مقررہ فورم کے سامنے اپیل کا حق حاصل ہوگا۔
5۔ منظوری کے بعد رکن کا اندراج مرکزی رجسٹر، ڈیجیٹل ممبرشپ ریکارڈ اور متعلقہ تنظیمی رجسٹر میں کیا جائے گا۔
6۔ ہر رکن کو منفرد رکنیتی شناختی نمبر (Membership ID) جاری کیا جائے گا۔
7۔ ریٹائرڈ ملازمین، پنشنرز، افیلی ایٹڈ اور معاون اراکین کی رکنیت کے لیے مرکزی مجلسِ عاملہ الگ قواعد وضع کر سکے گی۔
________________________________________
6.6 رکنیت کا ریکارڈ
1۔ تنظیم تمام اراکین کا مرکزی، صوبائی، ضلعی اور یونٹ سطح پر تحریری اور ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رکھے گی۔
2۔ رکنیت کے اندراج، تجدید، منتقلی، معطلی اور خاتمے کا مکمل ریکارڈ برقرار رکھا جائے گا۔
3۔ رکنیتی معلومات کی رازداری اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور انہیں صرف تنظیمی، انتظامی اور قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
4۔ مرکزی مجلسِ عاملہ رکنیت کے اندراج، تجدید، انتقال، ڈیجیٹل رجسٹریشن، شناختی کارڈ، فیس اور دیگر انتظامی امور کے لیے قواعد و ضوابط وضع کر سکے گی۔
________________________________________
یہ آرٹیکل 6 دستور 2026 کے معیار کے مطابق مکمل، جدید، غیر مکرر اور قانونی انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔
اگلے مرحلے میں ہم آرٹیکل 7 (رکن کے حقوق) کو اسی آئینی معیار کے مطابق تیار کریں گے، پھر اسی ترتیب سے آرٹیکل 8، 9 اور 10 مکمل کیے جائیں گے۔
آرٹیکل 7
رکن کے حقوق
تنظیم کا ہر رکن، اس دستور، منظور شدہ قواعد و ضوابط اور متعلقہ قوانین کے مطابق، درج ذیل حقوق کا حقدار ہوگا:
7.1 حقِ رائے دہی
ہر اہل رکن کو مقررہ شرائط پوری کرنے کی صورت میں تنظیم کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوگا۔
7.2 حقِ انتخاب
ہر اہل رکن کو اس دستور کے مطابق:
• انتخاب لڑنے؛
• کسی بھی تنظیمی عہدے کے لیے امیدوار بننے؛
• اور منتخب ہونے کی صورت میں تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالنے کا حق حاصل ہوگا۔
7.3 حقِ نمائندگی اور شرکت
ہر رکن کو تنظیم کے اجلاسوں، جنرل باڈی، کنونشنز، کانفرنسوں، سیمینارز، ورکشاپس، تربیتی پروگراموں اور مشاورتی سرگرمیوں میں شرکت اور اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہوگا۔
7.4 حقِ اظہارِ رائے و تجاویز
ہر رکن کو تنظیم کے اغراض و مقاصد کے فروغ کے لیے:
• قراردادیں؛
• تجاویز؛
• اصلاحی سفارشات؛
• پالیسی تجاویز؛
• اور شکایات
مقررہ طریقۂ کار کے مطابق پیش کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
7.5 حقِ تنظیمی معاونت
ہر رکن کو اپنے:
• سروس معاملات؛
• پنشن کے معاملات؛
• تنخواہوں اور مراعات؛
• فلاح و بہبود؛
• قانونی معاونت؛
• اور دیگر تنظیمی امور میں دستور اور قواعد کے مطابق تنظیم کی معاونت حاصل کرنے کا حق ہوگا۔
7.6 حقِ معلومات
ہر رکن کو تنظیم کے مالی، انتظامی، انتخابی اور تنظیمی امور سے متعلق معلومات تک، اس دستور اور معلومات کی رازداری سے متعلق قواعد کے مطابق، مناسب رسائی حاصل ہوگی۔
7.7 حقِ مساوی سلوک
ہر رکن کے ساتھ بلاامتیاز مساوی، منصفانہ اور باوقار سلوک کیا جائے گا۔ کسی بھی رکن کے خلاف مذہب، عقیدہ، جنس، زبان، نسل، صوبہ، معذوری یا کسی دیگر غیر آئینی بنیاد پر امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔
7.8 حقِ منصفانہ کارروائی
کسی بھی تنظیمی، انتظامی یا تادیبی کارروائی سے قبل ہر رکن کو درج ذیل حقوق حاصل ہوں گے:
1. تحریری اطلاع؛
2. الزامات کی مکمل تفصیل؛
3. صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع؛
4. غیر جانبدار فورم کے سامنے سماعت؛
5. تحریری فیصلہ؛
6. اور اپیل کا حق۔
7.9 حقِ تربیت و فلاح
ہر رکن کو تنظیم کے زیر اہتمام:
• تربیتی پروگراموں؛
• قائدانہ صلاحیتوں کی ترقی؛
• تعلیمی سرگرمیوں؛
• قانونی آگاہی؛
• تحقیقی منصوبوں؛
• اور فلاحی اسکیموںے مساوی طور پر استفادہ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
7.10 حقِ آئینی تحفظ
کوئی بھی رکن اس دستور میں درج حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا، الا یہ کہ اس دستور، منظور شدہ قواعد یا کسی مجاز فورم کے تحریری اور قانونی فیصلے کے تحت ایسا کیا جائے۔
7.11 حقِ اپیل
ہر رکن کو تنظیم کے کسی بھی انتظامی، انتخابی یا تادیبی فیصلے کے خلاف اس دستور میں مقررہ اپیلی فورم سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا، اور ایسی اپیل مقررہ مدت اور طریقۂ کار کے مطابق سنی اور فیصلہ کی جائے گی۔
آرٹیکل 8
رکن کی ذمہ داریاں
تنظیم کا ہر رکن اس دستور، تنظیمی نظم و ضبط اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے درج ذیل ذمہ داریوں کا پابند ہوگا:
8.1 دستور اور قانون کی پابندی
ہر رکن اس دستور، ضابطۂ اخلاق، تنظیمی قواعد و ضوابط، منظور شدہ فیصلوں، آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور نافذالعمل قوانین کی مکمل پابندی کرے گا۔
8.2 اتحاد، وقار اور نظم و ضبط
ہر رکن تنظیم کے اتحاد، یکجہتی، وقار، نیک نامی، ساکھ، نظم و ضبط اور جمہوری روایات کے تحفظ اور فروغ کے لیے عملی کردار ادا کرے گا۔
8.3 مالی ذمہ داریاں
ہر رکن مقررہ رکنیت فیس، چندہ، عطیات (رضاکارانہ) اور دیگر منظور شدہ واجبات بروقت ادا کرے گا اور تنظیمی مالی نظم و ضبط کا احترام کرے گا۔
8.4 دیانت داری اور شفافیت
ہر رکن اپنے تنظیمی فرائض دیانت داری، امانت، شفافیت، غیر جانبداری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دے گا اور ذاتی مفاد کو تنظیمی مفاد پر ترجیح نہیں دے گا۔
8.5 بدعنوانی سے اجتناب
ہر رکن رشوت، سفارش، اقربا پروری، مالی بے ضابطگی، جعل سازی، اختیارات کے ناجائز استعمال، مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) اور ہر قسم کی غیر قانونی یا غیر اخلاقی سرگرمی سے اجتناب کرے گا۔
8.6 اجتماعی فیصلوں کا احترام
ہر رکن تنظیم کے جمہوری طریقے سے کیے گئے فیصلوں، قراردادوں اور پالیسیوں کا احترام کرے گا اور ان پر عمل درآمد میں تعاون کرے گا، بشرطیکہ وہ اس دستور اور قانون سے متصادم نہ ہوں۔
8.7 ملازمین اور پنشنرز کا اتحاد
ہر رکن حاضر سروس ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین، پنشنرز، خواتین، نوجوان ملازمین اور خصوصی افراد کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور مشترکہ جدوجہد کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے گا۔
8.8 عوامی خدمت اور ریاستی اداروں کا احترام
ہر رکن سرکاری اداروں کے استحکام، عوامی خدمت، پیشہ ورانہ دیانت داری، قومی مفاد، آئینِ پاکستان اور قانون کی بالادستی کا احترام کرے گا۔
8.9 تنظیمی املاک اور وسائل کا تحفظ
ہر رکن تنظیم کی املاک، مالی وسائل، ریکارڈ، ڈیجیٹل معلومات، دستاویزات، مونوگرام، پرچم، مہر اور دیگر اثاثوں کے تحفظ اور درست استعمال کا پابند ہوگا۔
8.10 رازداری
ہر رکن تنظیم کے حساس، قانونی، مالی، انتخابی اور انتظامی معاملات سے متعلق معلومات کی رازداری برقرار رکھے گا، الا یہ کہ ان کے افشاء کی اجازت دستور، قانون یا مجاز فورم نے دی ہو۔
8.11 مثبت کردار
ہر رکن تنظیم کے اغراض و مقاصد کے فروغ، رکنیت میں اضافے، آئینی جدوجہد، تنظیمی استحکام، تربیت، فلاح و بہبود اور سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے گا۔
8.12 جوابدہی
ہر رکن اپنے تنظیمی اعمال اور فیصلوں کے لیے اس دستور، متعلقہ قواعد و ضوابط اور مجاز تنظیمی فورمز کے سامنے جوابدہ ہوگا۔
________________________________________
مسودے کی نمایاں خصوصیات
• آئینی اور قانونی زبان۔
• ایپکا پاکستان کے منشور2011 کے دستور کی روح برقرار رکھتے ہوئے جدید انداز میں اشاعت کیلئے منظم کرنا
• شفافیت، احتساب، رازداری، مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) اور ڈیجیٹل ریکارڈ جیسے جدید ادارہ جاتی اصول شامل کرنا ۔
• حاضر سروس ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کے باہمی اتحاد کو دستور کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے۔
• تنظیمی نظم و ضبط اور ریاستی اداروں کے احترام کو واضح آئینی ذمہ داری کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
آرٹیکل 9
رکنیت کی معطلی، خاتمہ اور تادیبی کارروائی
9.1 رکنیت کی معطلی یا خاتمہ
کسی بھی رکن کی رکنیت درج ذیل حالات میں، اس دستور اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق، عارضی طور پر معطل یا مستقل طور پر ختم کی جا سکتی ہے:
1. رکن کی جانب سے تحریری استعفیٰ پیش کرنا۔
2. ایسی صورت میں ملازمت، قانونی حیثیت یا اہلیت کا خاتمہ جہاں اس دستور کے تحت رکنیت برقرار رکھنے کی گنجائش موجود نہ ہو۔
3. دستور، ضابطۂ اخلاق، تنظیمی قواعد یا تنظیمی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی۔
4. تنظیم کے مالی، قانونی، انتظامی یا اخلاقی مفادات کو دانستہ نقصان پہنچانا۔
5. مناسب نوٹس کے باوجود مقررہ رکنیت فیس، چندہ یا دیگر واجبات مسلسل ادا نہ کرنا۔
6. جعل سازی، مالی بے ضابطگی، اختیارات کے ناجائز استعمال، بدعنوانی، دھوکہ دہی یا تنظیم کے خلاف ثابت شدہ سرگرمی۔
7. تنظیم کے نام، مہر، مونوگرام، پرچم، دستاویزات یا وسائل کا غیر مجاز یا ناجائز استعمال۔
8. کسی عدالت یا مجاز قانونی فورم کے ایسے فیصلے کی صورت میں جو رکن کی تنظیمی اہلیت کو متاثر کرتا ہو۔
________________________________________
9.2 تادیبی کارروائی کے بنیادی اصول (Due Process)
کسی بھی رکن کے خلاف کارروائی درج ذیل اصولوں کے مطابق ہوگی:
1. کسی بھی کارروائی سے قبل متعلقہ رکن کو تحریری شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔
2. شوکاز نوٹس میں تمام الزامات، شواہد اور متعلقہ دستاویزات کی واضح تفصیل درج ہوگی۔
3. رکن کو اپنا تحریری جواب جمع کرانے اور مناسب مدت میں صفائی پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔
4. اگر ضروری ہو تو رکن کو مجاز تنظیمی فورم کے روبرو ذاتی سماعت کا موقع دیا جائے گا۔
5. ہر کارروائی غیر جانبدار، شفاف، منصفانہ اور تعصب سے پاک ہوگی۔
6. کوئی بھی رکن محض الزام کی بنیاد پر سزا کا مستحق نہیں ہوگا جب تک کہ الزامات مناسب شواہد کی بنیاد پر ثابت نہ ہو جائیں۔
________________________________________
9.3 تادیبی سزائیں
الزام ثابت ہونے کی صورت میں، جرم کی نوعیت اور شدت کے مطابق درج ذیل کارروائی کی جا سکتی ہے:
1. تحریری تنبیہ (Warning)
2. سرزنش (Censure)
3. مخصوص مدت کے لیے بعض تنظیمی حقوق کی معطلی
4. مخصوص مدت کے لیے رکنیت کی معطلی
5. تنظیمی عہدے سے برطرفی
6. مستقل طور پر رکنیت کا خاتمہ
7. تنظیم کو مالی نقصان پہنچنے کی صورت میں، قانون اور دستور کے مطابق نقصان کے ازالے کی کارروائی۔
________________________________________
9.4 فیصلہ
1. ہر تادیبی فیصلہ مجاز تنظیمی فورم کی جانب سے تحریری وجوہات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
2. فیصلے کی مصدقہ نقل متعلقہ رکن کو فراہم کی جائے گی۔
3. فیصلہ تنظیمی ریکارڈ کا حصہ ہوگا۔
________________________________________
9.5 حقِ اپیل
1. ہر متاثرہ رکن کو تادیبی فیصلے کے خلاف مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ مجاز تنظیمی فورم کے سامنے اپیل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
2. اپیل کی سماعت غیر جانبدار فورم کرے گا، جس کے ارکان ابتدائی کارروائی میں شامل نہ رہے ہوں۔
3. اپیل پر فیصلہ مقررہ مدت کے اندر تحریری طور پر جاری کیا جائے گا۔
4. اپیلی فورم کا فیصلہ، اس دستور کے تحت، حتمی تصور ہوگا۔
________________________________________
9.6 انصاف اور وقار کا تحفظ
تادیبی کارروائی کا مقصد کسی رکن کو غیر ضروری طور پر ہراساں کرنا نہیں بلکہ تنظیمی نظم و ضبط، شفافیت، احتساب، انصاف اور ادارہ جاتی وقار کا تحفظ ہوگا۔ ہر کارروائی میں انصاف، مساوات، غیر جانبداری اور انسانی وقار کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے گا۔
دستوری نوٹ
یہ آرٹیکل پاکستان کے آئین کے اصولِ انصاف (Due Process)، شفاف طرزِ حکمرانی، قدرتی انصاف (Natural Justice) اور جمہوری تنظیمی نظم کے مطابق مرتب کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی رکن کے حقوق اور تنظیمی نظم و ضبط کے درمیان متوازن تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

آرٹیکل 10
اعزازی رکنیت (Honorary Membership)
10.1 اعزازی رکنیت کا مقصد
اعزازی رکنیت ان ممتاز شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہوگی جنہوں نے سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین، پنشنرز، محنت کشوں، عوامی خدمت، آئینی و جمہوری جدوجہد یا ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کے اغراض و مقاصد کے فروغ میں نمایاں، غیر معمولی اور قابلِ قدر خدمات انجام دی ہوں۔
10.2 اعزازی رکنیت دینے کا اختیار
اعزازی رکنیت مرکزی مجلسِ عاملہ کی کم از کم دو تہائی (2/3) اکثریت سے منظور کی جائے گی، اور اس کی منظوری باقاعدہ قرارداد کے ذریعے دی جائے گی۔
10.3 اعزازی رکن کی حیثیت
اعزازی رکن:
1. تنظیم کا معزز اور باوقار رکن تصور ہوگا۔
2. تنظیم کی تقریبات، سیمینارز، کانفرنسوں اور مشاورتی پروگراموں میں شرکت کر سکے گا۔
3. تنظیم کو مشاورتی آراء اور تجاویز پیش کرنے کا حق رکھے گا۔
4. تنظیم کے اغراض و مقاصد کے فروغ میں رضاکارانہ کردار ادا کر سکے گا۔
10.4 انتخابی اور انتظامی حقوق
اعزازی رکن کو:
1. ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
2. تنظیمی انتخابات میں امیدوار بننے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
3. کسی منتخب یا انتظامی عہدے پر فائز ہونے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
4. تنظیم کے مالی یا انتظامی فیصلوں میں ووٹنگ کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
البتہ اگر کوئی اعزازی رکن اس دستور 2026 کے مطابق باقاعدہ عام رکنیت حاصل کر لے تو اس کے حقوق و فرائض اس دستور کے مطابق ہوں گے۔
10.5 اعزازی اسناد
مرکزی مجلسِ عاملہ اعزازی رکن کو اس کی خدمات کے اعتراف میں:
• اعزازی سند؛
• شیلڈ؛
• تمغہ؛
• یا دیگر مناسب اعزاز
عطا کر سکتی ہے۔
10.6 اعزازی رکنیت کی واپسی
مرکزی مجلسِ عاملہ، تحریری وجوہات اور منصفانہ سماعت کے بعد، دو تہائی (2/3) اکثریت سے اعزازی رکنیت واپس لینے کی مجاز ہوگی اگر:
1. اعزازی رکن تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔
2. تنظیم کے اغراض و مقاصد کے خلاف سرگرمی میں ملوث ہو۔
3. کسی سنگین غیر اخلاقی یا غیر قانونی عمل میں ملوث پایا جائے۔
4. اعزازی رکنیت کے تقاضوں کے منافی طرزِ عمل اختیار کرے۔
10.7 اعزازی رکنیت کی نوعیت
اعزازی رکنیت محض اعزاز اور اعترافِ خدمات ہوگی، جس سے کسی قسم کے تنظیمی، انتخابی، انتظامی یا مالی اختیارات خودبخود حاصل نہیں ہوں گے، الا یہ کہ اس دستور میں کسی مخصوص معاملے کے لیے صراحتاً اس کی اجازت دی گئی ہو۔






اختتامی تشریحی شق
باب دوم: (رکنیت)
10.8 تشریح اور قواعد سازی کا اختیار
1. اس باب میں مذکور رکنیت، اہلیت، رکنیت کی اقسام، رجسٹریشن، حقوق، ذمہ داریاں، تادیبی کارروائی، اپیل، اعزازی رکنیت اور دیگر متعلقہ امور کی تفصیلات، طریقۂ کار، فارم، ریکارڈ، فیس، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور انتظامی ضوابط مرکزی مجلسِ عاملہ، اس دستور کے مطابق، قواعد و ضوابط (Rules & Regulations) کے ذریعے وضع کر سکے گی۔
2. اس باب کے تحت بنائے گئے تمام قواعد و ضوابط اس دستور، آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان، نافذالعمل قوانین اور تنظیم کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہیں ہوں گے۔
3. اگر اس باب کی کسی شق کی تعبیر، اطلاق یا نفاذ کے بارے میں کوئی ابہام پیدا ہو تو اس کی تشریح مرکزی مجلسِ عاملہ کرے گی، تاہم ایسی تشریح اس دستور کے متن، اغراض و مقاصد، جمہوری اصولوں اور قدرتی انصاف (Natural Justice) کے مطابق ہوگی۔
4. قواعد و ضوابط میں کی جانے والی کوئی بھی ترمیم یا اضافہ اس دستور میں درج اراکین کے بنیادی حقوق، انتخابی حقوق، اپیل کے حق یا مساوی سلوک کے اصول کو محدود یا سلب نہیں کرے گا۔
5. اس باب کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط کی منظوری مرکزی مجلسِ عاملہ دے گی اور ان کی توثیق آئندہ مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں پیش کی جائے گی، تاکہ تنظیمی شفافیت، احتساب اور جمہوری نگرانی برقرار رہے۔
تحفظی شق (Saving Clause)
آرٹیکل 10.9 — تحفظی شق
1. اگر اس باب کی کسی شق، ذیلی شق، قاعدے یا اس کے کسی حصے کو کسی مجاز عدالت، قانونی اتھارٹی یا تنظیم کے مجاز آئینی فورم کی جانب سے کالعدم، غیر مؤثر یا ناقابلِ نفاذ قرار دیا جائے، تو اس کا اثر صرف اسی مخصوص شق یا حصے تک محدود ہوگا، جبکہ اس باب کی باقی تمام شقیں اور اس دستور کی دیگر دفعات بدستور مکمل طور پر نافذ العمل اور مؤثر رہیں گی۔
2. ایسی صورت میں مرکزی مجلسِ عاملہ یا متعلقہ مجاز آئینی فورم، اس دستور کے اغراض و مقاصد، بنیادی اصولوں اور آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مطابق، متاثرہ شق کے متبادل یا اصلاحی متن کی تجویز مرتب کرے گا، جس کی توثیق اس دستور میں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق کی جائے گی۔
3. اس باب کی کسی شق کی عارضی عدمِ عملداری، تشریحی اختلاف یا نفاذ میں رکاوٹ کی بنیاد پر کسی رکن کے بنیادی حقوق، تنظیم کی قانونی حیثیت یا تنظیم کے جمہوری اور انتظامی امور کو غیر ضروری طور پر متاثر نہیں کیا جائے گا۔
4. اس تحفظی شق کا مقصد اس دستور کی قانونی حیثیت، ادارہ جاتی تسلسل، جمہوری استحکام اور تنظیمی فعالیت کو ہر حال میں برقرار رکھنا ہے۔