Massage by M A Bhurgri, Web Founder

پیغام

( In the name of ALLAH, the Most Beneficent, the Most Merciful )<center><br> پیش لفظ<br><center> ایک تنظیم کا تصور یا خواب چھوٹا سا بیان ہوتا ہے جو مستقبل کی صورتحال کو بیان کرتا ہے۔ جسے تنظیم کے ممبران حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں ۔ ایک تنظیم کا مشن و مقصد چھوٹے بیان کی طرح اور اس کے ہونے کی وضاحت تنظیم کا دستور کرتا ہے۔ اس لئے ایک فرد یا ممبر یا گروپ یا تنظیم کی وضاحت کرنی ہے جو تنظیم کی توجہ وسائل یا نتائج پر اپنی دعوئ کر سکتی ہو اور ان پر اثرانداز ہوتے ہوں ان کو تنظیمی اصطلاح میں عہدیدار اور ممبر کہا جاتا ہے جس کا ذکر آئین میں کیا جاتاہے ۔ تنظیم اور ممبران کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے تمام ممبران کو دن رات محنت کرنی ہوتی ہے ۔ تنظیم لفظ کی معنئ الگ الگ اس طرح سے بیان کی جاتی ہے ۔<br><center> لفظ تنظیم<br></center>  ت - ترتیب دینا<br>  ن - نظم وضبط کرنا<br>  ظ - ظلم کے خلاف لڑنا<br>  ي - یقین سے منظم ہونا<br>  م - محنت سے متحد کرنا<br> اس موقع پر ایپکا کے ان قائدیں و بانی ممبران اور شہید ساقی کو سلام پیش نہ کرنا اور ان کی خدمات کو نہ سراہا جائے تو ایک زیادتی ہوگی ان تمام کو میرا اور تمام تنظیمی ساتھیوں کی طرف سے سلام ہے جن قائدین کی رات ودن کی محنت اور کاوشوں سے ایپکا کا پودہ تیار ہوکر ممبران کے لئے ایک سایہ دار اور میوہ دینے والے درخت کی صورت میں ایپکا ممبران کے سامنے موجود ہے ۔ ان تمام محترم ساتھیوں کے نام مندرجہ ذیل اس طرح سے ہیں۔ محترم سید ھدایت یار بخاری خیبرپختون خواہ (سرحد) محترم محمد اسحاق ساقی (شہید ایپکا) پنجاب، محمد علی بھٹی خیبرپختون خواہ (سرحد) محترم عبیدالرحمان عابد خیبرپختون خواہ (سرحد) ، محترم محبوب خان ، محترم سید محمودالحسن آرزو پنجاب ، سید جاوید علی بخاری ، محترم رضا سید پنجاب ، محترم اعجاز علی خان (مرحوم) پنجاب، محترم راجہ عبدالخالق ، محترم صنوبر حسین ، محترم محمد افضل پنجاب ، محترم ولی محمد پٹہان (مرحوم) سندھ ، محترم محمد غفران پٹہان (مرحوم) سندھ ٬ محترم نیاز ابڑو (مرحوم) ، محترم غلام اللہ جلبانی سندھ ، محترم سید فدا اصغر آزاد جموں کشمیر مظفرآباد ، محترم نصراللہ درانی٬ محترم حاجی دین محمد بلوچستان و دیگر جن کی کاوشوں سے ایپکا پرواں چڑہی اور 1985 سے 1999 تک ایپکا کا عروج رہا ، جون 1998 سے پہلے ایسوسی ایشن میں ایک سازش کے تحت انتہائی بدنیتی کے ساتھ مختلف دھڑے پیدا کئے گئے اور مخلص ممبران کی عزت مجروح کی جاتی رہی ی اور بلوچستان کے مختلف عہدیداروں کو تاریخی دھاندلی کے ذریعے ہٹایا گیا اور ان ہی دنوں میں پنجاب صوبہ کی منتخب ایگزیکیوٹو باڈی کو انتہائی آمرانہ انداز میں برطرف کیا گیا اس طرح ایپکا میں بدتریں خلفشار اور تنظیمی بحران پیدا کیا جاتا رہا دوسری اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ 15 سال سے زیادہ عرصہ ایک ہی آدمی صدر رہا اور یونٹ سے لیکر تمام اضلاع کا حال یہی رہا خود ساختہ نمائندگان دوہرے عہدوں پر قابض رہے اور کسی تنظیمی ہمدرد کو موقعہ دینے سے ٹال مٹول کیا جاتا رہا اور اپنے نواز پالیسی بنائی گئی ، نتیجہ میں ایسوسی ایشن کو بڑا نقصان ہوا۔ اس بات کی نشاندہی شہید ساقی نے اپنے لیٹر میں کی لکہی ہے ، اس سے معلومات ملتی ہے کہ سید ہدایت بخاری اور شہید ساقی کے درمیان خلیج پیدا کردی گئی تہی ‏محترم ‏محمد اسحاق ساقی کی شھادت اور محترم ھدایت یار بخاری کی جبری ریٹائرمنٹ کے بعد ایسوسی ایشن کے ممبران بے یارو مددگار بنتے گئے ۔ تنظیم کے ممبران مایوس ہوکر گوشہ نشین بنتے جا رہے تھے، انہی دنوں میں پسند وناپسند کی بنیادیں رکھی گئیں جس کے بُرے اثرات تمام کے سامنے ہیں ۔ 2000-1999 میں کچھ ساتھیوں نے تنظیم سے علحدگی اختیار کی اور مختلف ساتہیوں نے خود کو بچانے کے لئے بڑے بڑے عہدوں پر خود کو فائز کرکے تنظیم کے اصولوں سے انحراف کیا اور ایسوسی ایشن کو ناتلافی نقصان دیکر گروپ بندی کی بنیادیں رکھی اور دیگر خود ساختہ لیڈروں نے تنظیم کے نام کی بگاڑ کرنے کی ناکام سازش کی اور سینکڑوں ہمدرد دوست ان کی چال میں پہنس گئے اور آج تک ان چنگل سے نہیں نکل سکے ہیں اور گنتی کے نام تا حال منافقانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں جس کی بڑی وجہ ایپکا گروپ بندی کا شکار ہوگئی ہے ۔ ایپکا ملازمین کی واحد نمائندہ تنظیم ہے جو گروپ بندی کا شکار تو ضرور ہے مگر ایپکا کے جہنڈے تلے جدوجہد کا ثمر ملک بھر کے ملازمین کو ضرور ملتا ہے- اس مایوسی میں تنظیم کے جھنڈے کو دوبارہ بلند کرنے کے لئے اپریل 2008 سے ایسوسی ایشن کو زندہ کرنے اور تنظیم کے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ بحال کرنے میں جن رہنماوُں نے اپنی کوشش کی ہے ان کو ہم کیسے بھلا پائیں گے ان کے نام اس طرح سے ہیں محترم سید محمدودالحسن آرزو تا حیات چیئرمین، محترم نذر حسین کورائی مرکزی صدر ایپکا پاکستان ، محترم مراد علی چاچڑ سیکریٹری جنرل ایپکا پاکستان، محترم ذوالفقار علی شیخ صوبائی صدر ایپکا سندھ، محترم ظفر علی خان (شیر پنجاب) صوبائی صدر ایپکا پنجاب، محترم حاجی محمد اکبر بنگل زئی صوبائی صدر ایپکا بلوچستان، محترم خالد جاوید سنگھیڑا، ایڈیشنل سیکریٹری جنرل ، محترم نفیس جاوید مانگٹ مرکزی نائب صدر، محترم شہزاد کیانی مزکزی نائب صدر، محترم محمد خان کاکڑ، محمد سلیم شیخو، محترم گل فراز جدوں، عطاءالله کمبھار اور دیگر شامل ہیں، تنظیم کو دوبارہ فعال کرنے کے محترم نذرحسین کورائی اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ان تمام دوستوں کے پاس گھر گھر اور دفاتر میں جاکر جو عہد یداری کے دعویدار تھے اور ذاتی طور معاملات کو درست کرنے اور ساتھیوں کی تکالیف کو حل کرنے کی دعوت دی ۔ نتائج حاصل نہ ہونے پر سپریم کائونسل کا دوبارہ اجلاس ملتان میں زیر صدرارت مرکزی چیئرمیں سید محمودالحسن آرزو منعقد ہوا اور اکثریتی فیصلے کی روشنی میں مرکزی سینٹرل ایگزیکیوٹو باڈی تشکیل دی گئی جس میں محترم نذر حسین کورائی (پنجاب) مرکزی صدر ایپکا اور محترم مراد علی چاچڑ (سندھ) کو سیکریٹری جنرل ایپکا پاکستان نامزد کیا گیا- یاد رہے کہ شہید محمد اسحاق ساقی جو کہ ایپکا پاکستان کے مزکزی چیئرمین اور مرکزی سیکریٹری جنرل بہی رہ چکے تھے ان کی شہادت کے بعد تنظیمی سرگرمیاں بھی ختم ہوتی گئے اور کافی عرصے سے اس امر کی ضرورت محصوس کی جارہی تھی کہ تنظیم ( آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن ) ایپکا / آپکا APCA کے دستور یا آئین Bye-Laws / Manifesto کو وقتی تقاضاوُں کے مطابق از سر نو مرتب کرنا انتہائی ناگزیر تہا اور ایپکا آئین کو وقت کی تقاضہ کے مطابق مکمل کرنے کے لئے محترم نذرحسین کورائی مرکزی صدر ایپکا پاکستان نے سینٹرل کمیٹی کے اجلاس ملتان میں 15 فیبروری 2009 کے موقعہ پر ایپکا / آپکا کے رہنماوُن کی ایک آئینی کمیٹی برائے ترامیم " ایپکا آئین" قائم کی گئی۔ ان میں شامل محترم سید محمدودالحسن آرزو چیئرمین، محترم ذوالفقار علی شیخ صوبائی صدر ایپکا سندھ، محترم ظفر علی خان صوبائی صدر ایپکا پنجاب، محترم حاجی محمد اکبر بنگل زئی صوبائی صدر ایپکا بلوچستان، محترم راجہ ظہوراحمد ، صوبائی صدر اپیکا آزاد جموں کشمیر ، محترم نفیس جاوید مانگٹ مرکزی نائب صدر (پنجاب)، محترم رشید احمد خان نائب صدر ایپکا پاکستان (بلوچستان)، محترم محمد خان کاکڑ ممبران کے علاوہ معاونت میں محترم منور اقبال سرگودھا، محترم ملک خورشید کراچی سندھ ، محترم محمد سلیم شیخو اور محترم گل فراز جدوں مدگار رہے ایم اے بھرگڑی کو سندھ بہی ایپکا کے اس ائین کی تیاری مدد گار نامزد کیا گیا ۔ چنانچہ شہید محمد اسحاق ساقی ، سیکریٹری جنرل ، اپیکا پاکستان کی کوششوں اور محنت کی شکل میں ترمیمی آئین 1991 دیا تہا اس کو تبدیل کرکے ایپکا کا آئین و دستور 2011 Bye-Laws / Manifesto کے نام سے مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس آئین کے آٹھ باب اور ساٹھ 60 آرٹیکل ہیں ، تمام آرٹیکل میں تنظیمی مقاصد ٬ نظم و ضبط اور تنظیم کے اصول بیان گئے ہیں جس پر ممبر سے لیکر عہدیداران تک عملی طرح کام کرنے کا طریقہ وضع کیا گیا ہے اور ایپکا کی جدوجہد سے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں جس سے تمام صوبائی اور وفاقی ملازمین مستقبل میں فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ ممبر ساتھیو ! میرے لئے بڑی خوشی کی بات٬ ایک سعادت اور اعزاز ہے کہ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا / آپکا APCA) کا آئین 2011 مکمل کرنے کے بعد محترم سید ‏‏‏ محمودالحسن آرزو، چئرمین ایپکا پاکستان و چیئرمین کامیٹی برائے ترامیم ایپکا آئين 17 دسمبر 2011 کو سکھرسندھ میں ورکرز کنوینشن کے موقع پراعلان کرتے ہوئے کہا ایپکا قائدین سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے تراميم اور منظور شدہ آئین 2011 ايپکا / آپکا پاکستان کی کاپی ایم اے (میرل الطاف) بھرگڑی کے حوالے کرتا ہوں اور میرے لئے دوسرا اعزاز یہ ہے ممبران کی سہولت کے لئے 2010 سے ایپکا پاکستان کی ویب کی تشکیل دی اور ویب کو ۱۰ سال تک کامیابی سے چلایا مگر ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے دسمبر ۲۰۲۰ میں فیس کی ادائگی میں سستی کی اور ویب Host نے فیس کے معاملہ کو نظر انداز کیا اور ویب ڈومین مستقل طور پر نیلامی کیلئے دستیاب کردیا گیا جس کی شروعاتی قیمت ۱یک لاکھ ۲۶ ہزار طلب کی گئی بعد میں ۶۲ ہزار کی مانگ ہوئی جب کہ تنظیم مالی طور پر مستحکم نا ہونے کی وجہ سے نیا ڈومن www.apcapk.com خرید کیا اور مجہے خوشی ہے اپنی مدد آپ کے اصول پر ایپکا پاکستان ویب کو قائم رکہا مگر ٹیکنیل طور پر ویب کا کام مشکل ہوتا اس لئے تکلیف سے گذرنا ہوتا ہے ۔ میں بطور ایک ورکر ایپکا پاکستان کے آئین ۲۰۱۱ کی کاپی کو بوک کی صورت میں تیار کرکے جناب چیئرمین و دیگر ایپکا کے صوابائی صدرور و دیگر رہنمائوں کے حوالے کردی تھی اور ویب پر لگانے کی باوجود ساتھیوں کی رائے کا انتظار رہا مگر کسی ساتھی نے نا مخالفت نا حمایت میں اپنا مشورہ دیا – اس علاوہ اپیکا پاکستان کے منشور ۲۰۱۱ کو ہم نے ایپکا پاکستان ( شہید ساقی ) کیلئے اس کا انتخاب کیا آپ دوستوں سے ایک مرتبہ دوبارہ عرض ہے اس کا مطالعہ کریں اور تنظیمی راء اور اپنے قیمتی مشوروں سے آگاہ کریں – (ایم اے بھرگڑی)<center><br>

Meeral Altaf Bhurgri Web Founder www.apcapk.com

An Office Bearer in an organization is also a member and worker. What should be his/her characteristics

کارکن اور اس کی خصوصیات: کارکن اس شخص کو کہتے ہیں جو قیادت کی راہنمائی کے مطابق اس کے ساتھ پورے اخلاص سے منظم طور پر کام کرنے کا معاہدہ کرے۔ ایک تنظیمی کارکن میں کیا خصوصیات ہونی چاہیں ، آیئے ایک نظر ان کا جائزہ لیتے ہیں: (1) الله تعالی پر کامل ایمان ایک تنظیمی کارکن کا اللہ تعالی پرکامل ایمان ہونا چاہیے، اس کا عقیدہ ہو کہ الله تعالی ہر وقت اس کے ساتھ ہے۔ وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام جیسے جذبئہ ایمانی کا مالک ہو، اس کا یہی جذ تنظیم کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ (2) انقلابی سوچ ایک تنظیمی کارکن کے لیے ضروری ہے کہ اس میں انقلابی سوچ موجود ہو، وہ ہر طرح کی بادمخالف سے لڑنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہو۔ جس میں خوئے انقلاب نہ ہو وہ زندگی موت کے برابر ہے۔ قوموں کی حیات کشمکش انقلاب میں پوشیدہ ہے۔ (3) یقیں محکم: ایک تنظیمی کارکن کا اپنے نظریے پر چٹانوں کی طرح کا یقین ہونا چاہیے۔ وہ شکوک وشبہات کی پرچھائیوں سے بھی دور بھاگے۔ ساری دنیابھی اس کی مخالف ہوجائے تو وہ اپنے نظریے سے بال برابر بھی اِدھر اُدھر نہ ہو۔ (4) بےلوث وابستگی: تنظیمی کارکن کو کسی بھی قسم کی پرکشش مراعات کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے اور نہ ہی اپنے دین و ایمان اور نظریہ وتحر یک کا سودا کرنا چاہیے۔ وہ بکنے اور جھکنے سے بالکل پاک ہو۔ اگر اس کے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی رکھ دیا جائے تو وہ اپنی بات سے ٹلنے والا نہ ہو۔ وہ بڑے سے بڑے فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔ (5) عمل پیہم: ایک تنظیمی کارکن کو ہر وقت متحرک ہونا چاہیے۔ اس کی رگوں میں عمل پیہم کا کرنٹ دوڑتے پھرنا چاہیے۔ کام کے بغیر اسے چین نہیں آنا چاہیے۔ وہ سرتاپاتریک اور سرتا عمل ہو۔ کام اس کی گھٹی میں پڑا ہو۔ اس کو شکست دیناکسی کے بھی بس میں نہ ہو۔ اس کے پیش نظر ہمہ وقت سرکار دوعالم ﷺ کی ذات والا صفات ہو کہ آپ سارا سارا دن بھی مکہ کے گلی کوچوں میں بھی اردگردعلاقوں اور قلعوں میں بھی عکاظ ومجنہ کے بازاروں میں بھی طائف کی پرکھٹن راہوں میں کبھی مکہ سے مدینہ کے سفر ہجرت میں بھی بدر وأحد میں بھی احزاب وحدیبیہ ہیں اور کبھی فتح مکہ غزوحنین میں ہر ہری لمحہ متحرک نظر آتے ہیں۔ پھر یہی تہر یک صحابۂ کرام میں نظر آتی ہے، اگر ہم دور خلافت راشدہ کی تیز ترین فتوحات کا جائزہ لیں تو ان کے سامنے بجلیاں بھی شرماتی نظر آتی ہیں۔ (6) اطاعت امیر ایک تنظیمی کارکن میں اطاعت امیر کا جذبہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہونا چاہیے۔ وہ امیر کے ہر شرعی حکم کا اپنے آپ کو پابند جانے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرے، حتی کہ راہ حق میں جان تک دینے کا حکم ہو تو وہ اس سے بھی دریغ نہ کرے۔ تنظیموں کی کامیابی میں اطاعت امیر کور یڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی تنظیم کی کامیابی کے امکانات بالکل مخدوش ہیں۔ جب تنظیمی کارکن میں اطاعت امیرکاجذبہ سرد پڑ جائے تو سمجھ لیجئے کہ تنظیم برباد ہوگئی اور اس کا مستقبل تاریک ہوگیا۔ حضور نے فرمایا: اگر تمہارے اوپر کی ناقص الاعضاء کوبھی امیر مقرر کر دیا جائے تو اس کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ خوشی وغمی اورتلخ وشیریں ہر حالت میں اس کی فرمانبرداری کرو۔ (7) استغناء: ایک تنظیمی کارکن کو دنیا کے ہر دکھ سکھ، ہرامن خوف اور ہر خوشی غمی سے بے نیاز ہونا چاہیے۔ وہ صرف اپنی منزل پہ نظر رکھے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ اس کے آڑے نہیں آنی چاہیے۔ ذرا ایک نظر صحابہ کرام کے استغناء پہ ڈا لیے: ایک صحابی اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر جہاد میں پہنچ گئے۔ ایک صحابی نے بستر، آرام عیش، چین کی نیند لذیذ کھانے اور ٹھنڈا پانی چھوڑا اور گوڑا دوڑاتے ہوئے بارگاہ رسالت میں پہنچ گئے ۔ غزوہ تبوک میں سارے دن میں صرف ایک گھونٹ پانی اور ایک کھجور کا دانہ ملتامگر صحابہ اس پر اکتفا کرتے ہوئے مشن کی طرف بڑھتے رہے۔ بہت سے صحابہ نے جان، مال، اولاد، دکان، مکان، سامان سب کچھ دین مصطفی کے لیے قربان کر دیا۔ (8) رابطے کادھنی: ایک تنظیمی کارکن کور ابطے کا دھنی ہونا چاہیے۔ وہ ہر وقت لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہے۔ ان کے دکھ سکھ میں شریک ہو۔ ہر بندے کی نفسیات کو سمجھے۔ ہر آدی سے اس کے ذہن کے مطابق بات کرے۔ رابطہ جتنا زیادہ مضبوط ہوگا کام اتنا آگے بڑھے گا اور رابطہ جتنا کمزور ہوگا اس تنظیم کا خسارہ و نقصان ہوگا۔ لہذا ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ ہر سطح کا رابطہ ہونا چاہے۔ رابطے کی کی زنجیرہی مختلف کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے اور بہت ہی آسانیوں کے دروازے کھولتی ہے۔ بقول اقبال فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریامیں، بیرون در یا کچھ نہیں (9) تربیتی اجتماعات میں شرکت: ایک تنظیمی کارکن کوتربیتی اجتماعات میں لازمی شریک ہو کر تربیت حاصل کرنی چاہیے۔ قلم، کتاب ، ڈائری اس کے پاس ہونے چاہیئں ۔ وہ تمام ہدایات کو اپنی ڈائری میں لکھ لے اور ذہن میں اچھی طرح محفوظ کرلے تربیتی اجتماع کی کوئی ایک ہدایت بھی اس کے ذہن سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے، اس کی تو مکمل طور پر ہدایات کی طرف ہونی چاہیے۔ (10) اہلیت: ایک کارکن کے لیے باصلاحیت اور اہل ہونا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ نا اہل اور با صلاحیت آ دمی ملک، ملت، خاندان، برادری تنظیم اور پارٹی کے لیے ایک عذاب سے کمنہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے سنورتے کام بھی بگڑ جاتے ہیں اور بنتے کام بھی خراب ہوجاتے ہیں۔ ایک اہل اور باصلاحیت کارکن اپنی خداداد صلاحیتوں سے ایسے ایسے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیتا ہے کہ ٹیم کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ لہذا ایک تنظیمی کارکن کو اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس کے لیے جہاں اسے مطالعہ، مشاہدہ اور تجر بہ فائدہ پہنچائیں گے وہاں کسی باصلاحیت کارکن یا لیڈر کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا، اس کے کاموں کا بغور جائزہ لینا اور اس کے تجربات سے فائدہ اٹھانا بھی حیرت انگیز حد تک مفید ثابت ہو گا۔ اس طرح تربیتی کورس میں باقاعد معلم فن سیکھنا بھی اہمیت حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ (11) اخلاص وللہیت: ایک تنظیمی کارکن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اخلاص وللہیت کے ساتھ کام کرے۔ اپنے کام کی تعریف کا متمنی نہ ہو اور نہ ہی اپنے اوپر قید و برا جانے۔ کیونکہ جو کام اس نے اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے اس پراجر بھی الله تعالی ہی عطا فرمائے گا۔ جس کاعمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے اور اگر اس نے بندوں کی طرف سے کی گئی تعریف کو ہی اپنا اجر سمجھ لیا تو اسے اجرِ آخرت سے محرومی کا سامنا ہوگا۔ اپنا کام سرانجام دینے کے بعد بندوں سے اجرت طلب کرنايا عہدہ کی خواہش کرنايا تعریفی کلمات کا انتظارکر نارضائے الہی، اخلاص اورللہیت کے خلاف ہے۔ اگر کسی نے اس پرتنقید کر دی تواسے پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جو کام اللہ کے لیے ہواس پرکوئی سو باربھی تنقید کر دے اس کا اجر نہیں چھینا جا سکتا۔ جس طرح ایک شیر خوار بچے کو نہ تعریف کا پتہ ہوتا ہے اور نہ ہی تنقید کا، اسی طرح اسے بھی ان چیزوں سے لاتعلق ہوجانا چاہیے۔ نہ تعریف اچھی لگنی چاہیے،نہ تنقید بری لگنی چاہیے۔ (12) نظریاتی ہونا: کارکن اگر نظریاتی نہیں ہے تو خدا کی قسم وہ کارکن ہی نہیں ہے، انسان وہی کارآمد ہے جس کے دل ودماغ میں علمی و فکری اور دینی وایمانی نظریات راسخ ہو چکے ہوں، وہ کسی نظریے کا پابند ہو، اس کے فروغ کے لیے کام کرتا ہو، اس پر دل و جان سے فدا ہو، اس کے لیے اپنا سب کچھ صرف کر دینا سعادت سمجھتا ہو، وہ نظریے کے لیے ہی جیتا ہو اور اسی کے لیے مرتا ہو، اس پر اپنے سب مفادات کو قربان کرتا ہو، اس کی تر جیح اس کا نظریہ ہو، اس کی پہچان اس کا نظریہ ہو، اس کا ہدف اس کا نظریہ ہو، اس کی شناخت اور تعارف اس کا نظریہ ہو۔ جب ایک کارکن اس حد تک نظریاتی ہوتا ہے تو کام میں بہتری آتی ہے اور تنظیم ترقی کرتی ہے ورنہ غیرنظریاتی آدمی اس بھوسے کی طرح ہے جس پر ایک چنگاری بھی آن پڑے تو وہ جل کر راکھ ہو جا تا ہے۔ (13) قوت برداشت اور موت سے بے خوفی: ایک تنظیمی کارکن کو موت سے بے خوف ، نڈر اور بے باک ہونا چاہیے۔ سرکار دو عالم صلى الله عليہ وسلم کا فرمان مبارک ہے: اللہ کی راہ میں مجھے اتناڈرایادھمکایا گیا اور اتنی اذیتیں دی گئیں کہ کسی اور کو نہیں دی گئیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں، دین کا کام کرنے والوں کوا بلتے تیل میں بھی ڈالا گیا، جلتی ہوئی آگ میں بھی جھونکا گیا، پھانسیاں بھی دی گئیں، جسم پر آریاں بھی چلائی گئیں، میخیں بھی ٹھونکی گئیں، جیلوں میں بھی بند کیا گیا، انگاروں پر بھی لٹکایا گیا، کوڑے بھی مارے گئے۔مگر انہوں نے نہ تو موت کی پروا کی اور نہ ہی زخموں کو خاطر میں لائے۔ (14) مال خرچ کرنے کا جذ بہ: ایک تنظیمی کارکن کے اندر مال خرچ کرنے کا جذ ب بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہونا چا ہیے۔ رسول ﷺ نے بھی دین کے اوپر مال کوترجیح نہیں دی۔ صحابہ کرام ہمیشہ اپنا سب کچھ دین خدا کے لیے لٹاتے رہے۔ مشن سے زیادہ مال کی اہمیت نہیں ہے۔ اگر کوئی مشن کے اوپر مال کو ترجیح دیتا ہے تو وہ تنظیم کے لیے زہر قاتل ہے۔ اگر اس کی اصلاح ممکن نہ ہوتو اسے تنظیم سے فوری طور پر نکال دینا چاہیے کیونکہ ایسے شخص کو جب بھی موقع ملے گاو تنظیم کو کھائے گا تنظیم کے لیے تو صرف وہی شخص مفید ہے جو اپناسب کچھ راہ خدا میں لگانے کا جذ ب رکھتا ہو۔ (15) وقت کا پابند: ایک تنظیمی کارکن کے لیے وقت کی پابندی بھی ازحد ضروری ہے کیونکہ جو وقت کا پابند نہیں ہے وہ سو فیصد خسارے میں ہے۔ وہ تنظیم کے امور میں نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ نہ وہ اجلاس میں وقت پر پہنچتا ہے اور نہ کسی پروگرام میں وقت پر پہنچتا ہے۔ لوگ اس کے انتظار میں گھڑیاں دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ اپنے اشغال میں مصروف ہوتا ہے۔ ایسے طرزعمل کی وجہ سے تنظیم کا نظام خراب ہوجاتا ہے۔ آللہ تعالیٰ ہم سب کو اتحاد نصیب فرمائے وسلام ♨️🌟✊ ایم اے بھرگڑی

Related post

Chart of Organization
Group Insurance & BF
Page1
Page2
Page3
About Me

Shaheed Muhammad Ishaque Saqi

Our Mission is to Protect the self-respect/dignity of the public servants٭

Our Manifesto is to strengthen and protect Government Institutions & Departments٭

Our Struggle is to improve economic status better & up to the mark of public servants*

Populer Post
Chart of Organization

2022-01-11

Group Insurance & BF

2022-01-11

Page1

2022-01-11

Page2

2022-01-11

Page3

2022-01-11